Jammu Kashmir Seeks Attention....Freedom is Our Birth Right....We Want United independent Jammu Kashmir..

Wednesday, March 4, 2026

آزاد جموں و کشمیر حکومت ریاستی ٹکڑی میں محکمہ خوراک کی طرف سے فراہم کئیے جانے والے ناقص گندم کے ناقص آٹے کی فراہمی کو روکے۔

 "محکمہ خوراک"

جیسا کے نام سے ظاہر ہے آزاد سمجھے جانے والے جموں اور کشمیر کا باقاعدہ محکمہ ہے جس کا کام ریاست کی اس ٹکڑی میں بسنے والے پینتالیس لاکھ انسانوں کو ہر طرح کی صاف ستھری اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار خوراک فراہم کرنا ہونا چاہئیے مگر عجیب مذاق  ہے کے وہ درجنوں اشیاء خوردونوش میں سے صرف ایک جنس گندم سے بنا آٹا جو انسان کی بنیادی ترین خوراک ہے فراہم کرتا آ رہا ہے" خوراک کی فقط ایک جنس مگر نااہلی کی انتہا ہے کے وہ بھی مضر صحت ناخوشگوار بو والا انتہائی غیر معیاری زائدالمیعاد گندم کا آٹا"  نہلے ہے دھلا  سرے سے اس محکمہ کا احتساب کرنے والا یا  اس سے پوچھنے والا ہی کوئی نہیں، 

جبکہ دوسری طرف ہر ضلع میں بازاروں کے اندر اشیاء خورد و نوش کی کوالٹی چیک کرنے کے لیے فوڈ اتھارٹیاں بھی کام کر رہی ہیں ان اتھارٹیوں سے سوال بنتا ہے کے کبھی انہوں نے اپنے برادر محکمے کے سپلائی ڈپو یا آٹا مل میں جاکر جس گندم سے یہ آٹا تیار ہوتا ہے اس کے سمپل لیے ہوں نیز اس گندم سے بننے والے آٹے کی کوالٹی چیک کی ہے؟ جواب یقیناً نفی میں  ملے گا۔

  محکمہ خوراک کے خلاف اس مضر صحت اور انتہائی ناقص بدبو والے  آٹے کی فراہمی کے حوالے سے گاہے بگاہے مختلف سوشل میڈیا یوزرز کی طرف سے آوازیں بھی اٹھتی آئی ہیں مگر آج تک کسی صاحب اقتدار یا احتساب نے ان آوازوں کو خاطر میں ہی نہیں لایا، تاجران پے مشتمل عوامی ایکشن کمیٹی نے بھی آج تک متعلقہ اتھارٹی یا حکومت کی توجہ اس ناقص آٹے کی طرف نہیں دلائی اس کی وجہ یہ ہے کے صاحب استطاعت اور مقتدر حلقے جانتے ہیں کے یہ آٹا زرا سستا ضرور ہے لیکن بدبو دار اور مضر صحت ہے اس لیے سرے سے وہ یہ آٹا استعمال ہی نہیں کرتے وہ کھلی مارکیٹ سے مہنگا فائن آٹا خرید کر استعمال کرتے ہیں، جبکہ ریاستی ٹکڑی کا معاشی طور پے کمزور طبقہ یہ جانتے ہوئے بھی کے محکمہ خوراک کا سستا آٹا بدبو سے بھرا اور جان لیوا تو ہے مگر پیٹ کا جہنم بھی تو بھرنا ہے سو وہ باعث مجبوری اور کراہت کے ساتھ اسے استعمال کرنے پے مجبور ہے۔ سوشل میڈیا پر کبھی کبھار اس غیر معیاری آٹے کی فراہمی کے خلاف اگر کوئی آواز اٹھتی بھی ہے تو بے اثر ہے ہوتی ہے اس کی وجہ اشرافیہ، مقتدرہ، انتظامیہ اور معاشرے کے معاشی طور پے مستحکم طبقے کا اس آٹے کا سرے سے استعمال ہی نا کرنا ہے، عام آدمی کیطرح اگر اس نام نہاد نمائشی ریاستی طرز کے عیاشی کے اڈے کا صدر، وزیراعظم ، سکریٹری، کمشنر ،ڈپٹی کمشنر   بھی یہ آٹا کھا رہے ہوتے تو یقینناً اس محکمہ کی جرات نا ہوتی کے یہ پڑوس سے جاکر ناقص گندم سستے میں خرید کر اسے پیس کر آٹے کی شکل دے کر انسانوں میں زہر بانٹ رہا ہوتا۔ افسوس۔۔ !!  کیونکہ یہ آٹا صرف غریب کھاتا ہے اور غریب کی کوئی آواز تو ہوتی ہی نہیں اس لیے حرام خور محکمہ اور اس کے کرتے دھرتے اپنے غیر انسانی اور انسان دشمن مقاصد میں کامیاب ہے۔ اور انسانی زندگیوں کے ساتھ یہ کھلواڑ سرعام دھندے کی صورت میں جاری و ساری ہے۔

Thursday, May 29, 2025

حادثات اور سانحات کی جدید سائنسی بنیادوں پے تحقیقات اور حاصل نتائیج ہے عمل کرکے مذید نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔

 ہم بحیثیت مجموعی محض انتہائی غیر ذمے دار اور لاپرواہ ہجوم ہیں۔

ترقی یافتہ باشعور ملکوں  میں معمولی سے معمولی حادثے سے لے کر بڑے سانحات کے بعد مستقبل میں اس طرح کے واقعات اور سانحات سے بچاؤ اور روک تھام  کے لیے سائنسی بنیادوں پے مکمل اور شفاف تحقیقات کی جاتیں ہیں، جن کی روشنی میں آئیندہ ان ناخوشگوار اور جان لیوا حادثات سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، مگر ہمارے ہاں اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے، عام آدمی سے ذمہ داران تک حادثات اور واقعات کے بعد حسب معمول بے مقصد مخصوص رٹے رٹائے الفاظ میں تعزیتی بیانات، جنت کی دعائیں، دلی دکھ افسوس و ہمدردیوں کا اظہار، صدمے میں برابر کے شریک ہیں، امین امین، شدید الفاظ میں مذمت جیسے  لاحاصل بیانات وغیرہ کے بعد  مطمئن ہو کر لمبی تان کے سو جانا اپنی زمہ داریوں سے فرار اور اس طرح کے مزید حادثات اور نقصانات کے لیے راہیں کھولنے کے سواہ اور کچھ نہیں۔

اگر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے، عام و خاص ماضی سے نکلیں عوام اپنے اداروں کو زور دے اور ادارے سانحات اور واقعات کی دیانتدارانہ اور فرض شناسانہ تحقیقات کرکے مزید سانحات اور واقعات کو روک لگا سکیں تو ان گنت اور ناقابل تلافی نقصانات سے بچا جا سکتا ہے،