"محکمہ خوراک"
جیسا کے نام سے ظاہر ہے آزاد سمجھے جانے والے جموں اور کشمیر کا باقاعدہ محکمہ ہے جس کا کام ریاست کی اس ٹکڑی میں بسنے والے پینتالیس لاکھ انسانوں کو ہر طرح کی صاف ستھری اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار خوراک فراہم کرنا ہونا چاہئیے مگر عجیب مذاق ہے کے وہ درجنوں اشیاء خوردونوش میں سے صرف ایک جنس گندم سے بنا آٹا جو انسان کی بنیادی ترین خوراک ہے فراہم کرتا آ رہا ہے" خوراک کی فقط ایک جنس مگر نااہلی کی انتہا ہے کے وہ بھی مضر صحت ناخوشگوار بو والا انتہائی غیر معیاری زائدالمیعاد گندم کا آٹا" نہلے ہے دھلا سرے سے اس محکمہ کا احتساب کرنے والا یا اس سے پوچھنے والا ہی کوئی نہیں،
جبکہ دوسری طرف ہر ضلع میں بازاروں کے اندر اشیاء خورد و نوش کی کوالٹی چیک کرنے کے لیے فوڈ اتھارٹیاں بھی کام کر رہی ہیں ان اتھارٹیوں سے سوال بنتا ہے کے کبھی انہوں نے اپنے برادر محکمے کے سپلائی ڈپو یا آٹا مل میں جاکر جس گندم سے یہ آٹا تیار ہوتا ہے اس کے سمپل لیے ہوں نیز اس گندم سے بننے والے آٹے کی کوالٹی چیک کی ہے؟ جواب یقیناً نفی میں ملے گا۔
محکمہ خوراک کے خلاف اس مضر صحت اور انتہائی ناقص بدبو والے آٹے کی فراہمی کے حوالے سے گاہے بگاہے مختلف سوشل میڈیا یوزرز کی طرف سے آوازیں بھی اٹھتی آئی ہیں مگر آج تک کسی صاحب اقتدار یا احتساب نے ان آوازوں کو خاطر میں ہی نہیں لایا، تاجران پے مشتمل عوامی ایکشن کمیٹی نے بھی آج تک متعلقہ اتھارٹی یا حکومت کی توجہ اس ناقص آٹے کی طرف نہیں دلائی اس کی وجہ یہ ہے کے صاحب استطاعت اور مقتدر حلقے جانتے ہیں کے یہ آٹا زرا سستا ضرور ہے لیکن بدبو دار اور مضر صحت ہے اس لیے سرے سے وہ یہ آٹا استعمال ہی نہیں کرتے وہ کھلی مارکیٹ سے مہنگا فائن آٹا خرید کر استعمال کرتے ہیں، جبکہ ریاستی ٹکڑی کا معاشی طور پے کمزور طبقہ یہ جانتے ہوئے بھی کے محکمہ خوراک کا سستا آٹا بدبو سے بھرا اور جان لیوا تو ہے مگر پیٹ کا جہنم بھی تو بھرنا ہے سو وہ باعث مجبوری اور کراہت کے ساتھ اسے استعمال کرنے پے مجبور ہے۔ سوشل میڈیا پر کبھی کبھار اس غیر معیاری آٹے کی فراہمی کے خلاف اگر کوئی آواز اٹھتی بھی ہے تو بے اثر ہے ہوتی ہے اس کی وجہ اشرافیہ، مقتدرہ، انتظامیہ اور معاشرے کے معاشی طور پے مستحکم طبقے کا اس آٹے کا سرے سے استعمال ہی نا کرنا ہے، عام آدمی کیطرح اگر اس نام نہاد نمائشی ریاستی طرز کے عیاشی کے اڈے کا صدر، وزیراعظم ، سکریٹری، کمشنر ،ڈپٹی کمشنر بھی یہ آٹا کھا رہے ہوتے تو یقینناً اس محکمہ کی جرات نا ہوتی کے یہ پڑوس سے جاکر ناقص گندم سستے میں خرید کر اسے پیس کر آٹے کی شکل دے کر انسانوں میں زہر بانٹ رہا ہوتا۔ افسوس۔۔ !! کیونکہ یہ آٹا صرف غریب کھاتا ہے اور غریب کی کوئی آواز تو ہوتی ہی نہیں اس لیے حرام خور محکمہ اور اس کے کرتے دھرتے اپنے غیر انسانی اور انسان دشمن مقاصد میں کامیاب ہے۔ اور انسانی زندگیوں کے ساتھ یہ کھلواڑ سرعام دھندے کی صورت میں جاری و ساری ہے۔

0 comments:
Post a Comment